نواز شریف کہا ہیں

لاہور میں نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد بیگم شمیم کو دفنا دیا گی. جب میاں محمد نواز شریف صاحب میاں شہباز شریف صاحب اور میاں عباس شریف صاحب کے والد کا انتقال ہوا تو اس وقت بھی دونوں سیاست کے میدان میں کودنے والے بھائی میاں محمد نواز شریف صاحب اور میاں محمد شہباز شریف صاحب والد میاں محمد شریف صاحب کے نماز جنازہ میں شرکت نہ کر سکے

کیوںکہ ان دنوں میں دونوں بھائی میاں محمد نواز شریف صاحب اور میاں شہباز شریف صاحب جلا وطن ہو کر سعودی عرب میں موجود تھے…. 2018 ء میں جب میاں محمد نواز شریف صاحب کی اہلیہ میاں محمد شہباز شریف صاحب اور میاں عباس شریف صاحب کی بھابھی اور میاں حمزہ شہباز شریف صاحب اور میاں سلیمان شہباز شریف صاحب کی تائی میاں محمد حسین نواز شریف صاحب اور میاں محمد حسن نواز شریف صاحب اور مریم صفدر اعوان کی والدہ کا انتقال ہوا تو اس وقت بھی میاں محمد نواز شریف صاحب کی اہلیہ کا انتقال ہوا تو وہ بھی لندن میں موجود تھی

لیکن وہاں سے بیگم میاں محمد نواز شریف کی میت کی واپسی پر بھی ان کے صاحبزادے میاں محمد حسین نواز شریف صاحب اور میاں محمد حسن نواز شریف صاحب آہنی ماں کے جنازے میں شرکت کرنے نہیں آئے کیوںکہ ان کا موقف تھا کہ لندن میں موجود کاروبار کی غرض سے ہیں ہمارا کافی کاروباری نقصان ہو گا.. 
آب آتے ہیں میاں برادران کی سیاست کی طرف


میاں محمد نواز شریف صاحب 1981 ء میں پنجاب کے وزیر خزانہ بنے اور 1985 ء میں میاں محمد شریف صاحب کے بڑے بیٹے میاں محمد نواز شریف صاحب پنجاب کے وزیر اعلی بننے….. 1990 ء میں میاں محمد نواز شریف صاحب وزیر اعظم پاکستان بنے….. سن 1997 ء میں ایک بار پھر میاں محمد نواز شریف صاحب وزیر اعظم پاکستان منتحب ہوئے….. سن 1997 ء میں ہی میاں محمد شریف صاحب کے بیٹے اور میاں محمد نواز شریف صاحب کے چھوٹے بھائی میاں حسین نواز شریف صاحب میاں حسن نواز شریف صاحب مریم صفدر اعوان کے چچا اور میاں حمزہ شہباز شریف صاحب اور میاں محمد سلیمان شہباز شریف صاحب کے والد گرامی میاں محمد شہباز شریف صاحب وزیر اعلی پنجاب منتحب ہوئے.

…. سن 2008 ء میں میاں محمد شہباز شریف صاحب ایک بار پھر پنجاب کے وزیر اعلی منتحب ہوئے…. سن 2013 ء میں میاں محمد نواز شریف صاحب ایک بار پھر وزیر اعظم پاکستان منتحب ہوئے….. سن 2013 ء میں ہی میاں محمد نواز شریف صاحب کے چھوٹے بھائی میاں محمد شہباز شریف صاحب ایک بار پھر وزیر اعلی پنجاب منتحب ہوئے ان 2017 ء میں وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف صاحب کو عدالت عظمی نے نا اہل کر دیا لیکن اس لئے ان 2018 ء میں وزارت عظمی کا عہدہ میاں محمد نواز شریف صاحب کی جگہ میاں محمد نواز شریف صاحب کے بھائی میاں محمد شہباز شریف صاحب کے لئے رکھ دیا گیا..

.. یوں میاں محمد نواز شریف صاحب کے بھائی میاں شہباز شریف صاحب وزیر اعظم پاکستان کے امید وار بنے لیکن کم ووٹوں کے باعث وہ اپوزیشن لیڈر کے طور پر سامنے آئے….. یوں وہ سن 2018 ء میں اپوزیشن لیڈر کے طور پر سامنے آئے اور میاں محمد شہباز شریف صاحب کے بیٹے میاں حمزہ شہباز شریف صاحب پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر منتحب ہوئے…… قسط اول 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *