پریس اور میڈیا گروپ کی جنگ

جس پر ظفر عباس انجم صاحب نے شاہد عالم صاحب سے کچھ سوالات بھی کئے ہیں لیکن ابھی تک ان سوالات پر کوئی جواب نہیں آیا شاہد عالم صاحب نے ویڈیو میں کہا کہ ہمارا کاروبار سود سے پاک ہے ظفر عباس انجم صاحب کم عقل اور کم علم انسان ہیں جس پر ظفر عباس انجم صاحب نے اعلان کیا کہ آپ آ جائیں مفتیان کرام کا ایک بورڈ تشکیل دیتے ہیں آپکا موقف سن کر وہ بورڈ فیصلہ کرے گا کہ کاروبار سود پر مبنی ہے یا نہیں

عوام میں بھی اب یہی رائے چل رہی ہے کہ یہ کاروبار سود پر مبنی ہے اور دوسری طرف پاکیزہ گروپ کی طرف سے مسلسل یہ اعلان کیا جا رہا ہے کہ یہ کاروبار سود سے پاک ہے اور فراڈ سے بھی پاک ہے اس سارے معاملے میں اس وقت ایک نیا موڑ سامنے آیا جس وقت پاکیزہ گروپ کے ایک اور ڈائریکٹر آفتاب صاحب نے اپنا موقف پیش کیا کہ ظفر صاحب مجھ سے زیادہ اسلامی شعور رکھتے ہیں

کیوںکہ آپ جماعت اسلامی سے منسلک ہیں اور میں بھی جماعت اسلامی سے منسلک ہوں کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ جماعت اسلامی کا کارکن ٹھگی یا فراڈ یا سود کا کاروبار کر سکتا ہے کیونکہ اس میں اور بھی جماعت اسلامی کے لوگ شامل ہیں اور پاکیزہ میری بیٹی کا نام ہے دو پروجیکٹ میری بیٹی کے نام پر رجسٹرڈ ہوئے ہیں آپ میری بیٹی کو بدنام کر رہے ہیں میں نے غزالی گروپ آف سکولز والوں کا کوئی پیسہ نہیں دینا بلکہ غزالی گروپ آف سکولز والوں نے میرے پیسے دینے ہیں

اور آپ نے کچھ عرصہ پہلے مجھ سے ایک لاکھ روپے ادھار مانگے تھے میری بچی بھی پاس بیٹھی تھی جب آپ پیسے مانگنے آئے تھے میں اس وقت مشکل میں تھا لیکن آپ پہلی بار مانگنے آئے تھے اس لئے میں نے انکار نہ کیا اور میری بیٹی نے ہی آپ کو پیسے پکڑاتے تھے آپ نے ابھی تک وہ پیسے بھی واپس نہیں کئے جس پر ظفر عباس انجم صاحب نے کہا کہ یہ ٹھگ اور فراڈ والے لفظ میں نے تو نہیں بولے یہ لفظ آپ نے خود بولے ہیں اور پاکیزہ صرف آپکی ہی نہیں بلکہ میری بھی بچی ہے میں اسے بد نام کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا اور آپ نے مجھے ایک لاکھ روپے بطور ادھار دئے تھے بلکل دئے تھے آپ اپنی یادداشت ٹھیک کریں میں وہ ایک لاکھ روپیہ آپ کو واپس کر چکا ہوں

اگر نہ یاد آئے میں ثبوت دے دوں گا آپ بیٹھ کر میرے ساتھ اپنا لیں دین کلئیر کر لیں اگر آپ کے کوئی پیسے یا کوئی چیز میرے ذمے ہوئی تو میں واپس کروں گا اس وقت تک ادھر سے اٹھوں گا نہیں جب تک واپس نہ کر دوں خیر اس کی بعد ابھی تک دونوں گروپس کی طرف سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا جسے ہی کوئی ردعمل سامنے آئے گا ہم اپنے ناظرین اور قارئین کو اس صورت حال سے آگاہ کریں گے

کیوں کہ پھالیہ شہر کی عوام اسی انتظار میں بیٹھی ہے کہ دیکھتے ہیں کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے کہ کہیں ہم سود کا کاروبار تو نہیں کر رہے کہیں ہمارے ساتھ ڈبل شاہ والا فراڈ تو نہیں ہونے جا رہا تو کچھ انوسٹر حضرات یہ اعلان بھی کر رہے ہیں کہ اس میں فراڈ نام کی کوئی چیز نہیں ہے خیر اس حقائق تو اس وقت ہی سامنے آئیں گائے جب دونوں گروپس بیٹے کر لائیو سوالات کریں گئے لوگ دیکھیں گئے تو ہی کسی گروپ کے سچا ہونے کا اعلان کیا جا سکے گا…  بحر حال سن انتظار کر رہے ہیں

کہ کب معاملات واضح ہوں گئے تا کہ ہم اس کمپنی کے ساتھ انوسٹ کر کے اپنا سرمایہ محفوظ کر سکیں اور منافع کما سکیں ساتھ یہ ڈر بھی ہے کہ کہیں اس میں سود شامل نہ ہو یا ڈبل شاہ والا فراڈ بہ ہو جائے…باقی ہم کچھ دن تک حالات اور واقعات کو سامنے رکھتے ہوئے ساری صورت حال عوام کے سامنے رکھیں گئے تا کہ صورت حال واضح ہو جائے اور عوام میں پائی جانے والی بے یقینی اور بے چینی ختم ہو سکے اور غلط فہمیوں کا ازالہ ہو سکے..

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *