بچوں کو ظالم درندوں سے بچائیں

آج کل ہمارے معاشرے میں بچوں کے ساتھ درندگی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ آئے روز ملک بھر سے بچوں کے حوالے یہ خبر سننے کو مل رہی کہ فلا جگہ سے بچے کی لاش برامد ہوئی ہے۔ کھبی جہاڑیوں سے اور کھبی جنگل سے اور کھبی نہر سے لیکن یہ درندے بھول جاتے ہیں

کہ ان کے بچوں جیسے یہ معصوم سے پھول جیسے جیسے ہم نوچ کھانے کے لیے مرے جا رہے۔ لیکن قصور ان درندوں کے ساتھ قانون نافز کرنے واسلے اداروں کا کہ جو ان درندوں کو پکڑے جانے کے باجود سزا نہیں دیتے اور وہ عبرت ناک سزا نہیں دیتے جس کے بعد اسے درندے اس طرح کی حرکت کرنے سے پہلے سو بار سوچیں گے کہ اگر پڑے گیے

تو ہم تو مرے گے ہی ساتھ میں ہمارے بیوی بچے اور گھر والےبھی کسی کو منہ دکھانے کے لائک نہیں رہے گے۔ اس کے بعد ہمارے بچوں کے ساتھ ایساں کچھ نہ ہو جائے لیکن حال تو یہ ہے کہ مدرسوں اور سکولوں میں بھی یہ سب کچھ دیکھنے کو مل رہا ۔ سکولوں اور مدرسوں میں استاد انسان کے روپ میں بھڑیا مصوم سی کالیوں کو روند ڈالتے ہیں۔ سب سے زیادہ قصور ادالتوں میں جج سے لے کر کر ہر اس انسان کا جو مجرم کو سزا ہونے سے روک رہا ہوتا۔

ان وکلاء کا جو چند ہزار فیس کی خاطر اسے درندوں کو سزا ہونے سے بچا لتے ہیں۔ ان پولس افسران کا جو پیسے کی لالچ میں ان درندوں پر کاروائی نہیں کرتے ان کو کھلی چھوٹ دی ہوئی ہے۔ ان حکومتی اور سیاسی وزرا اور اہلکاروں کا جو سیاسی اسروں رسوخ کا استعمال کرتے ہیں ۔ کہ یہ درندے بھی انسان ہے ان کو سخت سزا نہیں ملنی چاہے ۔ نہ ہم ایساں ہونے دے گے ۔ وہ مخالفت کرتے اور مصوم بچوں کو نوچنے والے درندے بچ جاتے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *